Urdu Screen Shot 2014-05-29 at 2.38.35 PM

Published on May 29th, 2014 | by ksc

مسئلہ کشمیر پرپرنارویجن پارلیمنٹ میں مذمتی قرارداد پیش کریں گے، ایرلڈ ہیریڈی

مسئلہ کشمیر پرپرنارویجن پارلیمنٹ میں مذمتی قرارداد پیش کریں گے، ایرلڈ ہیریڈی

Dated: 2014-05-28


اوسلو۔۔۔۔۔ نارویجن پارلیمنٹ میں قائم آل پارٹیز کشمیر کمیٹی کے سربراہ مسٹر نٹ ایرلڈ ہیریڈی نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پرنارویجن پارلیمنٹ میں مزمتی قرارداد پیش کریں گے۔

جبکہ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم وپاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیرکے مرکزی رہنماء بیرسٹر سلطان محمودچوہدری نے کہا ہے کہ ناروے نے انسانی حقوق اور مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ اپنا واضح موقف اختیارکیا ہے۔اسی طرح ناروے حق خود ارادیت اور انسانی حقوق پر ایوارڈ بھی دیتا رہا ہے۔لہذا اب وقت آگیا ہے کہ نارویجن پارلیمنٹ میں قائم آل پارٹیز کشمیر کمیٹی کو صحیح معنوں میں فعال کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے یہاں ناروے کی پارلیمنٹ میں نارویجن پارلیمنٹ میں قائم آل پارٹیز کشمیر کمیٹی کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرکرسچن ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ ،ناروے کے سابق وزیراور نارویجن پارلیمنٹ میں قائم آل پارٹیز کشمیر کمیٹی کیسربراہ مسٹر نٹ ایرلڈ ہیریڈی (Mr. Knut Arild Hareide)،کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی ناروے کے پارٹی ترجمان و وزیر اعظم ناروے کے امور خارجہ کے مشیرمسٹر اوڈ جسٹن سائٹر(Mr. Odd Justin Ster)، کشمیر، سکینڈینیوین کونسل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹرسردار علی شاہنواز خان اور دیگر بھی موجوتھے۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سات لاکھ فوج نہتے کشمیری عوام پر مظالم ڈھا رہی ہے اگر مقبوضہ کشمیر میں مظالم و بربریت اسی طرح جاری رہے تو کشمیری عوام بھی اسکا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ انڈیا میں بھی اب ایک ہندؤ انتہا پسند جماعت بی جے پی کا وزیر اعظم بنا ہے۔اسی طرح اب عالمی تناظر میں امریکی صدر اوبامہ نے بھی کہا ہے کہ اس سال امریکی و نیٹوافواج افغانستان سے واپس چلی جائیں گی۔لہذا اب اس بات پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اس موقع پر بھی روسی افواج کے انخلاء جیسا حال نہ ہو کہ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے اور بعد میں وہاں پر حالات مزید خراب ہو گئے اور ایک خانہ جنگی کی سی صورتحاال درپیش رہی۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ نائن الیون کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کوئی فریڈم اسٹرگل نہیں ہوئی کیونکہ اسے بھی دہشت گردی سے منسوب کردیا جاتا تھا اور کشمیریوں نے ہتھیار رکھ کر بھارت اور انٹرنیشنل کمیونٹی کو موقع دیا مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔اب چونکہ امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے تو مسئلہ کشمیر کا حل از بس ضروری ہے ورنہ اس خطے میں دہشت گردی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس موقع پر بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے نارویجن پارلیمنٹ کے اراکین کو آزاد کشمیر کے دورے کی دعوت دی۔جس پر کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ وہ عنقریب آزاد کشمیر کا دورہء کریں گے۔


About the Author



Leave a Reply

Back to Top ↑